Articles by "دلچسپ و عجیب"
Showing posts with label دلچسپ و عجیب. Show all posts

ناظرین گرمیاں ہیں اور ہر گھر میں اے سی چلتا ہے جس کی وجہ سے گھروں میں بجلی کا بل استطاعت سے اکثر باہر ہوتا ہے ۔ چلو پانچ ، چھ ہزار ہو تو کوئی بات نہیں مگر بیس، پچیس ہزار یہ حقیقتاً اتنا بل ہے کہ جسے ادا کرنا ہر پاکستانی کے بس کی بات نہیں مگر قارئین آج ہم آپ کو بتائیں گے اے سی کو 4روپے فی گھنٹہ چلانے کا ایسا آسان اور شاندار نسخہ کہ آپ ہمیں دعائیں دے گے ۔

قارئین سب سے پہلے تو آپ نے کوشش کرنی ہے کہ گرمیوں میں میٹرپر زیادہ لوڈ نہ ڈالا جائے۔ یعنی ایک ہی وقت میں ، اے سی ، کولر ، فریج ، استری ، گیزر پانی والی موٹر یا ایسی ہی مختلف چیزوں کو ایک ساتھ نہ چلایا جائے کیونکہ یہ سب چیزیں ایک ساتھ چلنے سے آپ کے بجلی کے میٹر پر بے پناہ بوجھ پڑتا ہے جس کی وجہ سے بجلی کا بل بہت زیادہ آتا ہے کیونکہ ان چیزوں کو ایک ساتھ چلانے سے میٹر چلتا نہیں بلکہ بھاگتا ہے ۔ تو جس وقت جس چیز کی ضرورت ہو وہی چیز چلائیں اور باقی سب چیزیں بند رکھی جائیں ۔

پلے پہل ہمارے گھروں میں ایک روٹین ہوتی تھی کہ جب ہمارے گھروں میں واٹر پمپ چلایا جا تا تھا تب فریج بند کر دیا جاتا تھا اور استری بھی نہیں چلائی جاتی تھی ، اسی طرح جب استری استعمال کرنا ہوتی تو دوسری بڑی مشینیں بند کر دی جاتی تھیں جس کی وجہ سے بجلی کا بل بہت کم آتا تھا ۔

تو چلیں اب آپ کو بتاتے ہیں وہ طریقہ جس کے ذریعے آپ کا اے سی ایک گھنٹے میں چار روپے بجلی خرچ کرے گا مگر اس سے پہلے اے سی کے فنکشن کو سمجھنا پڑے گا۔ قارئین ایک ٹن کااے سی ایک گھنٹے میں تقریباً گیارہ سو ساٹھ واٹ بجلی استعمال کرتا ہے وہ بھی اس صورت میں جب اے سی پورا گھنٹا اپنی پوری قوت کیساتھ چل رہا ہو ۔ 
 
لیکن اگر اسی کنوینشل اے سی کی بجائے آپ کے کمرے میںاِنورٹر لگا ہوا ہو اور وہ 26ڈگری پر چل رہا ہو تو کیلکولیشن کے مطابق محض 20منٹ کے بعد انورٹر اے سی اپنا کمال دکھانا شروع کردیتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ اے سی کم بجلی خورچ کرنا شروع کردیتا ہے اور کیلکولیشنز کے مطابق 20منٹ کے بعد یہ اے سی ایک گھنٹے میں 400واٹ بجلی استعمال کرنے لگتا ہے ۔ قارئین واپڈا کے بجلی کے میٹر کا ایک یونٹ ہزار واٹ کے برابر ہوتاہے ۔ یعنی ایک گھنٹے تک اگر ہزار واٹ برابر چلتے رہیں تو ایک یونٹ شمار ہوگا ۔
 
 اور جیسا کہ ہم نے آپ کو پہلے بتایا کہ آپ کا انورٹر اے سی پہلے 20منٹ کے بعد اپنی ورکنگ پوزیشن میں آنے کے بعد ایک گھنٹے میں صرف400واٹ استعمال کرے گا تو اس حساب سے آپ کے واپڈا کے میٹر پر ایک گھنٹے میں صفر اعشاریہ چار یونٹ خرچ ہونگے ۔ واپڈا کے گھریلو صارف کے ٹیرف کے مطابق پہلے 300یونٹس پر آپ کو پر یونٹ 10روپے بل آتا ہے ۔
 
 تو اس حساب سے اگر آپ اپنا اے سی اسمارٹلی استعمال کریں گے تو ایک گھنٹے میں آپ کا بل چار سے سوا چار روپے کے برا بر ہوگا اور اگر واپڈا کے بلو ں پر نظر دوڑائی جائے تو صارفین اگربجلی کے یونٹس کم استعمال کرتے ہیں تو ان کیلئے فی یونٹ 10روپے کی بجائے 8روپے کا کر دیا جاتا ہے ۔
آرٹیکل کریڈٹ: toktv.site
دنیا میں پائے جانے والے مختلف ٹی وی چینلز اپنے چینلز کی ریٹنگز کو بڑھانے کے لیے دیکھنے والوں کی تعداد بڑھنانے کی کوشش کرتے ہیں
اس سے انکی کمائی میں اضافہ ہوتاہے۔ مگر اب برطانیہ کی ایک ایسی خاتون جس کا نام میری کنشا ہے، کو ایک ایسی نوکری مل گئی ہے
 جسے دیکھ کے سب ہی رشک کریں گئے۔ میری برکنشا نے نوٹی وی نامی ایک چینل میں مقابلہ جیتا جس میں اسکو ایک سال کے لیے باکس سیٹ سیبیٹکل دیا گیا۔
 اسے اب یہ کرنا ہے کہ ایک سال تک اسے سارا دن اس چینل پر نشر شو دیکھنے ہوں گے
 اور اس کے بدلے یہ چینل اسے پینتیس ہزار پاؤنڈ جو کہ پاکستانی چونسٹھ لاکھ روپے بنتے ہیں ادا کرے گا۔
 نو ٹی وی کے اس مقابلے میں تقریبا ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی تھی اور میری برکنشا کو اس مقابلے میں کامیابی ملی تھی۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ شوگر ایک بہت ہی موزی بیماری ہے، شوگر کے مریضوں کا انسولین کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ 

امریکہ کہ سائینٹسٹس نے سمندر میں موجود سمندری گھونگوں سے حاصل ہونے والے زہر سے اس مؤزی مرض کا علاج ڈھونڈ لیا ہے۔

 سمندری گھونگے میں 200 سے زیادہ کمپاؤنڈ ہوتے ہیں۔ جن کو استعمال کرکے یہ دیگر مچھلیوں اور حشرات کا شکار کرتی ہیں۔

 ان دو سو کمپاؤنڈ میں ایک کمپاؤنڈ انسولین ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے سمندر سے تین مختلف قسم کے گھونگوں سے حاصل کردہ زہر کا تجربہ کیا

 حیران کن بات یہ تھی کہ تینوں کے زہر(انسولین) مختلف تھی۔ مگر ان سے حاصل کردہ انسولین عام روٹین میں استعمال ہونے والی انسولین سے بہت زیادہ تیز تھی،

 اس انسولین میں "اےچین" نامی جزو انسانی استعمال انسولین کی نسبت بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔

 جس سے شوگر لیول زیادہ دیر تک کنٹرول میں رہتا ہے۔ 
ہمارے گھروں میں بعض اوقات جو کھانے بچ جاتے ہیں انہیں فریج میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ تاکہ اگلے روز اسے استعمال میں لایا جا سکے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول جو بچ جاتے ہیں انہیں دوبارہ استعمال میں لانا کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔

 بچے ہوئے چاول سے فوڈپوائزنئنگ جیسی بیماری ہو سکتی ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ کچے چاولوں میں ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں

 جو فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں، اور اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پکنے کے بعد اس میں کچھ مقدار بیکٹیریا کی رہ جاتی ہے۔

 اور کمرے کے درجہ حرارت پر یہ بیکٹیریا دوگنا افزائش پاتے ہیں۔ چاول کھانے کے ایک سے پانچ گھنٹے بعد فوڈ پوائزننگ، الٹی یا ڈائریا کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

 مگر اسکا اثر 24 گھنٹے تک رہتا ہے۔ اس لیئے یہ زیادہ خطرناک نہیں سمجھا جاتا۔

 ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ چاول کی صرف اتنی ہی مقدار پکائیں جتنی ایک بار میں سرو ہوں، اگر بچ بھی جایئں تو بچے ہوئے چاول چوبیس گھنٹے کے اندر اندر زیر استعمال لائیں۔

 اور کوشش کریں کہ فریج میں رکھے گئے چاول کو ایک ہی بار میں گرم کر کے استعمال کریں، بچے ہوئے چاول کو بار بار گریج میں رکھنا یا گرم کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
بھارت کے مدھیہ پردیش میں رہنے والا ایک بچہ، للت پیٹیدا جس کی عمر تیرہ سال ہے کے تمام جسم پر بال نکلے ہوے ہیں۔

 اور ڈاکٹروں نے اسے لاعلاج کرار دے دیا ہے۔ زرائع کے مطابق رتلام نامی بستی میں رہنے والے اس لڑکے کے تمام جسم و چہرے پر کسی عجیب بیماری کی وجہ سے، بال نکلے ہوئے ہیں۔

 ڈاکٹرز کے مطابق، للت پیٹیدار کو ویرولف سینڈروم نام کی بیماری ہے۔ بستی میں رہنے والے تمام لوگ للت کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں اس سے نفرت کرتے ہیں۔

 للت کے چند ہی دوست ہیں جن کے ساتھ وہ کھیلتا ہے۔ للت کا کہنا ہے کہ انجان لوگ اسے دیکھ کر پتھر مارتے ہیں

 اور بندر بندر کہ کر بلاتے ہیں، جو کہ اس کے لیئے تکلیف دہ ہے۔ للت امید رکھتا ہے کہ آئندہ مستقبل میں اسکی اس بیماری کا علاج ضرور ایجاد ہو جائے گا۔
نظام شمسی میں موجود سورج کبھی بھی پہلے سے موجود نہیں تھا، بلکہ سورج نظام شمسی میں پائے جانے والے ان باقی ستاروں کے مواد سے بنا ہے

 جو کہ پھٹ کر یا ٹوٹ کر خلا میں بکھر گئے تھے، ستاروں کے ٹکڑے یا مواد جن  کےاندر گیسوں کے زرات، جو کہ آپس میں کشش ثقل کیوجہ سے جڑنا شروع ہو گئے۔

 اور آہستہ آہستہ مرکز میں جمع ہوتے گئے اور اس طرح سے مرکز کے وزن میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور اسطرح اسکے حجم میں اضافہ ہوتا چلا گیا

 اور جلد ہی اس نے باہر سے بہت زیادہ مواد کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ اسطرح سے نیوکلئر فیوژن کا آغاز ہوگیا۔

 اس عمل کے دوران ہاہیڈروجن گیس کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم گیس بنا دیتے تھے، جس کے نتیجے میں بھاری مقدار میں توانائی کا خروج ہوتا ھے

 اور اسی عمل کی وجہ سے اب تک سورج حرارت/توانائی پیدا کر رہا ہے۔ اور اسی عمل کی وجہ سے سورج سے حرارت/توانائی اور روشنی کا اخراج ہوتا ہے۔

 یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ پانچ ارب سالوں تک اس عمل کے جاری رہنے کے امکان ہیں۔

Where-did-the-sun-come-from-?-How-sun-was-created-? 
برطانوی سائنسدانوں کے مطابق اب کینسر جیسے موزی مرض کا علاج اب مرغیوں سے ھاصل ہونے والے انڈوں سے باآسانے ممکن ہے،

 اور یہ طریقہ ان کے نزدیک سادہ اور سستا ہے۔ ماہرین نے مرغیوں پر جنیاتی تجربے کیئے جس کے نتیجے میں کچھ ایسی مرغیاں حاصل ہوئی

 جن کے انڈوں میں خاصی مقدار میں ادویاتی پروٹین ( میکروفیج سی ایس ایف ) موجود ہے۔ جو کہ کینسر سے لڑنے کی صلاحیت بھرپور رکھتا ہے۔

 مزہ کی بات اس میں یہ ہے کہ ان انڈوں سے پروٹین با آسانی نکالی جا سکتی ہےاس سے قبل خرگوش اور بکریوں سے پروٹین حاصل کیا جاتا تھا

 مگر اب مرغیوں کا یہ نیا طریقہ سستا، مؤثر و سادہ مانا جاتا ہے۔