Articles by "صحت"
Showing posts with label صحت. Show all posts
  پنجاب سے تعلق رکھنے والے اور پنجاب کے ڈومیسائل رکھنے والوں سے درخواستیں درکار ہیں۔ تمام جابز ایڈہوک بیس پر مہیا کی جائیں گی۔ 

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ شوگر ایک بہت ہی موزی بیماری ہے، شوگر کے مریضوں کا انسولین کے بغیر گزارا نہیں ہے۔ 

امریکہ کہ سائینٹسٹس نے سمندر میں موجود سمندری گھونگوں سے حاصل ہونے والے زہر سے اس مؤزی مرض کا علاج ڈھونڈ لیا ہے۔

 سمندری گھونگے میں 200 سے زیادہ کمپاؤنڈ ہوتے ہیں۔ جن کو استعمال کرکے یہ دیگر مچھلیوں اور حشرات کا شکار کرتی ہیں۔

 ان دو سو کمپاؤنڈ میں ایک کمپاؤنڈ انسولین ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے سمندر سے تین مختلف قسم کے گھونگوں سے حاصل کردہ زہر کا تجربہ کیا

 حیران کن بات یہ تھی کہ تینوں کے زہر(انسولین) مختلف تھی۔ مگر ان سے حاصل کردہ انسولین عام روٹین میں استعمال ہونے والی انسولین سے بہت زیادہ تیز تھی،

 اس انسولین میں "اےچین" نامی جزو انسانی استعمال انسولین کی نسبت بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔

 جس سے شوگر لیول زیادہ دیر تک کنٹرول میں رہتا ہے۔ 
ہمارے گھروں میں بعض اوقات جو کھانے بچ جاتے ہیں انہیں فریج میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ تاکہ اگلے روز اسے استعمال میں لایا جا سکے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ چاول جو بچ جاتے ہیں انہیں دوبارہ استعمال میں لانا کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔

 بچے ہوئے چاول سے فوڈپوائزنئنگ جیسی بیماری ہو سکتی ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ کچے چاولوں میں ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں

 جو فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتے ہیں، اور اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پکنے کے بعد اس میں کچھ مقدار بیکٹیریا کی رہ جاتی ہے۔

 اور کمرے کے درجہ حرارت پر یہ بیکٹیریا دوگنا افزائش پاتے ہیں۔ چاول کھانے کے ایک سے پانچ گھنٹے بعد فوڈ پوائزننگ، الٹی یا ڈائریا کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

 مگر اسکا اثر 24 گھنٹے تک رہتا ہے۔ اس لیئے یہ زیادہ خطرناک نہیں سمجھا جاتا۔

 ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ چاول کی صرف اتنی ہی مقدار پکائیں جتنی ایک بار میں سرو ہوں، اگر بچ بھی جایئں تو بچے ہوئے چاول چوبیس گھنٹے کے اندر اندر زیر استعمال لائیں۔

 اور کوشش کریں کہ فریج میں رکھے گئے چاول کو ایک ہی بار میں گرم کر کے استعمال کریں، بچے ہوئے چاول کو بار بار گریج میں رکھنا یا گرم کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
برطانوی سائنسدانوں کے مطابق اب کینسر جیسے موزی مرض کا علاج اب مرغیوں سے ھاصل ہونے والے انڈوں سے باآسانے ممکن ہے،

 اور یہ طریقہ ان کے نزدیک سادہ اور سستا ہے۔ ماہرین نے مرغیوں پر جنیاتی تجربے کیئے جس کے نتیجے میں کچھ ایسی مرغیاں حاصل ہوئی

 جن کے انڈوں میں خاصی مقدار میں ادویاتی پروٹین ( میکروفیج سی ایس ایف ) موجود ہے۔ جو کہ کینسر سے لڑنے کی صلاحیت بھرپور رکھتا ہے۔

 مزہ کی بات اس میں یہ ہے کہ ان انڈوں سے پروٹین با آسانی نکالی جا سکتی ہےاس سے قبل خرگوش اور بکریوں سے پروٹین حاصل کیا جاتا تھا

 مگر اب مرغیوں کا یہ نیا طریقہ سستا، مؤثر و سادہ مانا جاتا ہے۔

امریکن ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ چکن کھانے سے انسان کو کینسر جیسی مہلک بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

ایف ڈی اے کی نئی رپورٹ کے مطابق برائلر مرغیوں کو جو خوراک دی جاتی ہے اس میں بیشتر اجزا ایسے شامل ہیں جو کہ کینسر جیسی مہلک بیماری کا باعث بنتی ہیں۔

 بہت ہی زیادہ خطرناک مہلک کیمیکل آرسینک جو کہ برائلر کو بیماریوں سے بچانے اور برائلر کا وزن بڑھانے کے لیئے ان کی خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کینسر کی بیماری کا سبب بنتا ہے،

 پروفیسر فیصل مسعود نے کہا کہ فوری طور پر متعلقہ اداروں کو چائیے کہ وہ فیڈز بنانے والی کمپنیوں کو چیک کریں کہ ان کی تیار کردہ خوراک میں آرسینک شامل تو نہیں ہے۔

 اور جب تک یہ واضع نہیں ہو جاتا مکمل طور پر، شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ احتیاط کریں۔ برائلر مرغی کا گوشت اگر گلابی مائل رنگت میں ہو

 تو سمجھ جائیں کہ اس میں آرسینک کی کچھ مقدار موجود ہے۔ کیونکہ اس کی ایسی رنگت آرسینک کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔